ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے میں 5 عام شہری ہلاک ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکا کی جانب سے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک آپریشن جاری تھا اور اس دوران ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والی کشتیاں پاسدارانِ انقلاب سے تعلق نہیں رکھتی تھیں بلکہ وہ عام شہریوں کی تھیں جو سامان اور مسافروں کی نقل و حمل کر رہی تھیں۔ اس واقعے میں 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک عسکری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی افواج نے دو چھوٹی مال بردار کشتیوں پر فائرنگ کی۔ یہ کشتیاں خصب کے علاقے سے ایرانی ساحل کی طرف جا رہی تھیں اور ان میں عام مسافر موجود تھے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی کارروائی غلط فہمی اور جلد بازی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، اور اسے پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں سے متعلق خدشات کے تناظر میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں 6 ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا اور ایران کی جانب سے داغے گئے ڈرونز اور کروز میزائلوں کو بھی ناکام بنایا۔ سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی بحری گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے جاری مشن کا حصہ تھی۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔