صومالی ساحل کے قریب قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی بحری عملے کی نئی ویڈیو سامنے آ گئی ہے، جس میں عملے کے افراد نے اپنی محفوظ رہائی کے لیے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق MT Honour 25 نامی آئل ٹینکر کو اپریل میں صومالیہ کے قریب مسلح قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ جہاز پر موجود عملے میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جن کی تعداد مختلف رپورٹس میں 10 سے 11 بتائی گئی ہے۔
نئی ویڈیو میں یرغمالیوں نے بتایا کہ کئی ہفتے گزرنے کے باوجود وہ مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شپنگ کمپنی اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے مؤثر رابطہ نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
یرغمال پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ شپنگ کمپنی سے رابطہ کر کے قزاقوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل تیز کروائے تاکہ تمام افراد کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔
خاندانوں کے مطابق عملے کی حالت اور مسلسل تاخیر کے باعث تشویش بڑھ رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قزاقوں کی جانب سے رہائی کے بدلے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ مذاکرات کے لیے مجاز نمائندے کی شرط رکھی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کو سفارتی اور دیگر ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم جہاز پر موجود افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے محتاط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
بحری قزاقی کے یہ واقعات ایک بار پھر بین الاقوامی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جہاں تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو خطرات کا سامنا رہتا ہے۔