فرانس میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس میں دنیا کی سات صنعتی معیشتوں کے سربراہان مختلف عالمی بحرانوں، جنگوں، توانائی اور معاشی مسائل پر بات چیت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ جی 7 اجلاس میں شریک ہر رہنما اپنے ملک کے مخصوص سیاسی اور عالمی مفادات کے ساتھ پہنچا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ کے اثرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے معاملے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ ابتدائی پیش رفت کے باوجود معاہدے کی تفصیلات اور اس کے مستقبل پر سوالات موجود ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ وہ یورپ کے لیے زیادہ خودمختار عالمی کردار کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یورپی ممالک عالمی فیصلوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر داخلی سیاسی دباؤ کے باوجود اجلاس میں اپنی قیادت کا تاثر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد عالمی سطح پر برطانیہ کے کردار کو نمایاں کرنا بھی ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی
جارجیا میلونی ماضی میں ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کے لیے جانی جاتی تھیں، تاہم اب وہ ملکی سیاسی حالات کے باعث امریکا سے فاصلے اور یورپی مفادات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے ٹرمپ کو جرمن فٹبال شرٹ کا تحفہ بھی دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایران پالیسی پر اختلافات بھی موجود ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو جی 7 میں ایک اہم آواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ بدلتی عالمی طاقتوں کے نظام اور درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک کے کردار پر زور دے رہے ہیں۔
جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائچی کے لیے توانائی کا تحفظ اہم موضوع ہے۔ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال نے جاپان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دیگر مدعو عالمی رہنما
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی
زیلنسکی روس کے خلاف جنگ میں یورپی حمایت بڑھانے اور ممکنہ امن مذاکرات کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کے مقصد سے اجلاس میں شریک ہیں۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی غزہ جنگ بندی کے لیے مصر کے کردار کے باعث خصوصی حیثیت کے ساتھ اجلاس میں مدعو کیے گئے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی
نریندر مودی جی 7 اجلاس میں بھارت کے مفادات اور مؤقف کے ساتھ شریک ہیں۔ ایران اور یوکرین کی صورتحال اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہے، جس کی وجہ سے دیگر عالمی مسائل پر توجہ نسبتاً کم رہی ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی
قطر کے امیر ایران کے ساتھ ممکنہ امن پیش رفت کو اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ خلیجی خطے کی صورتحال قطر کے لیے بھی اہم ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید
یو اے ای کے صدر بھی ایران تنازع کے خاتمے اور خلیج کی بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی امن معاہدے سے خطے کی سیاست اور معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رواں سال کا جی 7 اجلاس صرف معاشی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ایران، یوکرین جنگ، توانائی اور عالمی طاقتوں کے بدلتے تعلقات کا اہم مرکز بن گیا ہے۔