امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متوقع ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کئی اختلافات اور چیلنجز سامنے آئے ہیں۔
جی 7 اجلاس کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات کا مقصد تعلقات میں بہتری کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات کو اس وقت دھچکا لگا جب خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں امریکا پر تنقید بھی سامنے آئی۔
بھارت کو ایران جنگ کے اثرات کے باعث توانائی کی فراہمی کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جبکہ روسی تیل کی خریداری پر امریکی دباؤ اور تجارتی معاملات نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ ملاقاتوں میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ گرمجوشی کا اظہار کیا تھا، تاہم بعد میں امریکا کی جانب سے تجارتی پالیسی، ٹیرف اور امیگریشن اقدامات نے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات اہم ہیں، لیکن نئی دہلی کو تجارت اور عالمی سیاست کے معاملات میں زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن بھی بھارت سے مارکیٹ تک رسائی اور دوطرفہ معاہدوں میں پیش رفت چاہتا ہے۔
ملاقات کے دوران ممکنہ طور پر تجارتی معاہدہ، توانائی کا تحفظ، خطے کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔
بھارت جی 7 کا رکن نہیں ہے، تاہم اسے بعض اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا ہے تاکہ عالمی مسائل پر شراکت دار ممالک کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جا سکے۔