ایویان، فرانس: فرانس کے پہاڑی شہر ایویان میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے اور اہم عالمی معاملات پر تعاون بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اجلاس کے پہلے مکمل دن جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے صدر ٹرمپ کو نمبر 47 والی فٹبال جرسی تحفے میں پیش کی۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کے لیے خیرسگالی کا پیغام تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کے معاملے پر امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔
یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکی پالیسی اور جنگی کارروائیوں پر تنقید کے بعد صدر ٹرمپ نے یورپ سے بعض امریکی فوجیوں کے انخلا کا عندیہ دیا تھا، جس سے دونوں جانب تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔
تاہم ایران کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کے خدوخال سامنے آنے کے بعد یورپی رہنماؤں نے ایک بار پھر سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے معاہدے کے فریم ورک کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتی ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے خاتمے کا انتظار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ عملی سفارت کاری جاری رکھیں۔ ان کے مطابق ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے، لیکن یورپ کے پاس امریکا کے متبادل کے طور پر کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو شاہی محل ورسائی میں عشائیے کی دعوت دی، جو امریکی یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی اختیار کی گئی تھی، جب میکرون نے انہیں پیرس کی فوجی پریڈ میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا تھا۔
دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے فوجی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ اجلاس میں ماحول نسبتاً دوستانہ دکھائی دیا، تاہم یوکرین جنگ کے حوالے سے اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یوکرین کی جنگ امریکا کی براہ راست جنگ نہیں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کا کردار بنیادی طور پر اسلحہ فروخت کرنے تک محدود ہے اور جغرافیائی طور پر یہ تنازع امریکا سے ہزاروں میل دور واقع ہے۔
اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں ایران تنازع کے دوران ان ممالک کے کردار اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی کہ امریکا ایران میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور نہ ہی اس پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے "ناقابلِ تصور نتائج" کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق جی 7 اجلاس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود امریکا اور یورپ عالمی سلامتی، توانائی اور سفارتی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔