جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سخت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ فاصلے کم کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس خدشے کی وجہ سے ان کیمرہ اجلاس نہیں بلا رہی کہ پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو وہ اس کی گارنٹی دینے کو تیار ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تقاریر کے مبینہ بلیک آؤٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری میڈیا پر اپوزیشن کا مؤقف سامنے نہیں لایا جا رہا، حالانکہ پارلیمان میں تمام اراکین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہیں اتفاق رائے سے سپورٹ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق میثاق جمہوریت ایک اہم سیاسی دستاویز ہے جس نے تلخ سیاسی تاریخ کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں قرضوں میں اضافہ ہوا ہے اور ہر شہری بھاری مالی بوجھ کا شکار ہے، جبکہ غربت کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں 28ویں آئینی ترمیم اور 18ویں ترمیم سے متعلق بحث جاری ہے، جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سود کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے باوجود عملی پیشرفت نہیں ہوئی، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر بھی مناسب عمل نہیں کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
اہم نکات
- مولانا فضل الرحمان کا پی ٹی آئی سے فاصلے کم کرنے کا اعتراف
- اپوزیشن کی تقاریر کے مبینہ بلیک آؤٹ پر تنقید
- میثاق جمہوریت کو سیاسی استحکام کی بنیاد قرار دیا
- 18ویں اور 28ویں آئینی ترمیم پر خدشات کا اظہار
- غربت اور قرض میں اضافے پر تشویش
- کشمیر مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر زور