امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کی موجودگی اور اس کی مبینہ فعالیت نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل حملے کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے، اور سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل نے کشیدگی کے آغاز پر خفیہ طور پر اپنا دفاعی نظام اور فوجی اہلکار متحدہ عرب امارات میں تعینات کیے تھے تاکہ خلیجی ریاست کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے، رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے مبینہ میزائل حملوں کے دوران امارات کا فضائی دفاعی نظام اور آئرن ڈوم دونوں مشترکہ طور پر فعال رہے اور آنے والے خطرات کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے میزائل براہِ راست آئرن ڈوم نے تباہ کیے اور کتنے دیگر نظاموں نے روکے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے چار میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے تین کو تباہ کر کے سمندر میں گرایا گیا، فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق ایک پیٹرولیم صنعتی سائٹ پر ڈرون حملہ بھی ہوا جس کے بعد تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی اور تین بھارتی شہری زخمی ہوئے، اس واقعے کے بعد دبئی اور شارجہ کے درمیان فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا جبکہ حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل میزائلوں کو روکنے میں مصروف رہا اور مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔