بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے، کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (NPCs) کو مزید دو اہم کرنسیوں، سعودی ریال (SAR) اور متحدہ عرب امارات درہم (AED) میں بھی متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق یہ سرٹیفکیٹس پہلے پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھے، تاہم اب خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی بھی اپنی مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
سرمایہ کاری کی کم از کم حد
نئے قواعد کے تحت:
- سعودی ریال، یو اے ای درہم، امریکی ڈالر اور یورو میں کم از کم سرمایہ کاری 1,000 یونٹس ہوگی۔
- سرمایہ کاری میں 500 یونٹس کے اضافے کے ساتھ اضافہ کیا جا سکے گا۔
- پاکستانی روپے میں کم از کم سرمایہ کاری 10,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں 1,000 روپے کے اضافے کی گنجائش ہوگی۔
سرمایہ کاری کے لیے بینکنگ انتظامات
اسٹیٹ بینک کے مطابق:
- سعودی ریال میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی نیشنل بینک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹس استعمال کیے جائیں گے۔
- یو اے ای درہم میں سرمایہ کاری کے لیے فرسٹ ابوظہبی بینک اور اسٹیٹ بینک کے نامزد اکاؤنٹس دستیاب ہوں گے۔
منافع کی شرح
سعودی ریال اور یو اے ای درہم میں جاری ہونے والے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح درج ذیل ہوگی:
مدت اور منافع کی شرح
3 ماہ 6.50 فیصد
5 سال7.50 فیصد
اس فیصلے کی اہمیت
ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ سعودی ریال اور درہم میں سرمایہ کاری کی سہولت سے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری آسان ہوگی بلکہ پاکستان کو بھی قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
مختصر طور پر: نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور یو اے ای درہم کی شمولیت خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک اہم مالی سہولت قرار دی جا رہی ہے، جو محفوظ سرمایہ کاری کے ساتھ پرکشش منافع کا موقع فراہم کرے گی۔