امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطے کسی بھی وقت اہم معاہدے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے باوجود مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور بیک ڈور سفارت کاری بدستور جاری ہے۔ ان کے مطابق جلد مثبت پیش رفت سامنے آنے کی امید ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر جنگی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے۔ انہوں نے کہا کہ ان جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم امریکی دفاعی نظام نے حملہ ناکام بنا دیا۔
ٹرمپ کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے میزائل اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ حملہ آور چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی جہاز مکمل طور پر محفوظ رہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب واشنگٹن ایران کی جانب سے ایک امریکی تجویز کے جواب کا انتظار کر رہا تھا، جس کا مقصد فوری کشیدگی کم کرنا اور لڑائی روکنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی “معمول کا ملک” بین الاقوامی پانیوں میں امریکی بحری جہازوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا، تاہم ایران کا رویہ مختلف رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ واشنگٹن کے مطابق تہران ایسی صلاحیت حاصل ہونے کی صورت میں اسے استعمال بھی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے تو امریکا مزید سخت اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے ہی ایران کو “ناک آؤٹ” کر چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جلد فیصلہ کرے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔