وزیراعظم کی سبسڈی پر مبنی الیکٹرک بائیکس اسکیم میں کمرشل بینکوں کی محدود دلچسپی کے باعث حکومت نے پروگرام کی پالیسی میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بینکوں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں میں سے صرف 4,075 یعنی تقریباً 9 فیصد درخواستیں منظور کی گئیں، جس کے باعث رواں مالی سال میں 116,000 الیکٹرک بائیکس کی تقسیم کا ہدف متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن پروگرام میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کے استعمال کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر صرف 5,409 الیکٹرک بائیکس اور رکشے تقسیم کیے جا سکے ہیں، جو سالانہ ہدف کا تقریباً 4.5 فیصد بنتا ہے۔ بینکوں کو موصول 44,689 درخواستوں میں سے صرف 22 فیصد پر کارروائی ہو سکی جبکہ منظوری کی شرح بھی انتہائی کم رہی۔
اس کے برعکس خود مالی معاونت (سیلف فنانس) اسکیم میں بہتر نتائج دیکھے گئے، جہاں تقریباً تمام اہل درخواست گزاروں کو بائیکس فراہم کر دی گئیں اور زیادہ تر کو سبسڈی بھی حاصل ہوئی۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں بینکوں کے کردار کو محدود کرتے ہوئے سیلف فنانس اسکیم کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ نئی سہولت کے تحت صارفین سبسڈی منہا کرکے آسان ادائیگی کے ذریعے بائیک حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں مکمل رقم پیشگی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
سرکاری ملازمین (گریڈ 16 اور اس سے کم) کے لیے بھی خصوصی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت وہ صرف 10 ہزار روپے ایڈوانس دے کر الیکٹرک بائیک حاصل کر سکیں گے، جبکہ باقی رقم اقساط میں ادا کی جائے گی۔
مزید برآں طلبا کے لیے بھی خصوصی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے نمایاں پوزیشن ہولڈرز میں 600 الیکٹرک بائیکس تقسیم کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت تین ماہ میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، جس سے ایندھن کی بچت اور زرمبادلہ میں کمی ممکن ہوگی۔ یہ پروگرام نیو انرجی وہیکلز لیوی کے تحت فنڈ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے رواں مالی سال میں 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔