ترکی کی وزارت برائے قومی دفاع کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر نے ملک کے پہلے بین البراعظمی میزائل “یلدرم ہان” کی نمائش کر کے عالمی دفاعی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
یہ میزائل استنبول میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ساہا ایکسپو میں پیش کیا گیا، جو 5 سے 9 مئی تک جاری رہی۔
میزائل کے ڈیزائن میں تاریخی اور قومی علامتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں ایک جانب عثمانی سلطان بایزید اول کا مونوگرام اور دوسری جانب مصطفیٰ کمال اتاترک کا نشان موجود ہے۔
ترکی کے وزیرِ دفاع یاسر گلر کے مطابق “یلدرم ہان” ملک کا پہلا ایسا میزائل ہے جو مائع ایندھن (liquid fuel) پر کام کرتا ہے اور ہائپرسونک خصوصیات رکھتا ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق یہ میزائل ترکی کی تاریخ کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
نمائش میں موجود چارٹ کے مطابق اس میزائل کی رینج تقریباً 6,000 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے، جبکہ اس میں چار راکٹ انجن نصب ہیں جو اسے انتہائی تیز رفتار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
دعوؤں کے مطابق “یلدرم ہان” آواز کی رفتار سے تقریباً 25 گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جو اسے ہائپرسونک کیٹیگری میں شامل کرتا ہے۔
اس میں مائع نائٹروجن ٹیٹراکسائیڈ فیول استعمال ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو جدید میزائل ٹیکنالوجی میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ترکی کی دفاعی صنعت نے ڈرونز اور لانگ رینج میزائل سسٹمز کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔
اس سے قبل بھی ترکی نے “تیفن” اور “جنک” جیسے میزائل سسٹمز متعارف کروائے تھے جن کی رینج اور صلاحیتیں مختلف دفاعی نمائشوں میں زیر بحث رہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بین البراعظمی میزائل ایسے ہتھیار سمجھے جاتے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض صورتوں میں متعدد وارہیڈز بھی لے جا سکتے ہیں۔
روس، امریکہ اور چین سمیت کئی بڑے ممالک اس ٹیکنالوجی پر پہلے سے کام کر رہے ہیں، جبکہ دیگر ممالک بھی محدود پیمانے پر ایسے نظام رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید میزائل ٹیکنالوجی نہ صرف دفاعی حکمت عملی بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم ان کے بارے میں کئی تکنیکی تفصیلات اکثر محدود یا غیر واضح رکھی جاتی ہیں۔