جنوبی کوریا کے سرکاری آڈٹ ادارے نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ 2021 میں فضا میں پیش آنے والے دو لڑاکا طیاروں کے تصادم کی اصل وجہ پائلٹس کی جانب سے پرواز کے دوران ویڈیوز اور تصاویر بنانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ جنوبی کوریا کے وسطی شہر ڈیگو (Daegu) میں ایک تربیتی مشن کے دوران پیش آیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک پائلٹ اپنی فوجی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز کو یادگار بنانے کے لیے اپنے ذاتی موبائل فون سے فوٹو گرافی میں مصروف تھا۔ اس دوران وہ اپنے لیڈر طیارے کے خطرناک حد تک قریب چلا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں ایف-15 کے (F-15K) طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔
اگرچہ اس حادثے میں دونوں پائلٹ معجزانہ طور پر محفوظ رہے اور طیارے گرنے سے بچ گئے، لیکن ان کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ جنوبی کوریا کے بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپیکشن (BAI) نے بتایا کہ ان طیاروں کی مرمت پر حکومت کو تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار ڈالر (تقریباً 16 کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کرنے پڑے۔
حکام نے اس لاپروائی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ذمہ دار پائلٹ پر، جو اب فوج چھوڑ چکا ہے، 88 ملین وون (تقریباً 60 ہزار ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ تشویشناک انکشاف بھی کیا گیا کہ اس وقت پائلٹوں کے درمیان پرواز کے دوران موبائل فون کا استعمال اور یادگاری تصاویر لینا ایک "عام رواج" بن چکا تھا۔
حقائق اور تجزیہ
کلیدی حقائق:
طیاروں کی قسم: حادثے کا شکار ہونے والے طیارے F-15K Slam Eagle تھے، جو جنوبی کوریا کے مہنگے ترین اور جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
مالی نقصان: مرمت کی لاگت 880 ملین وون رہی، جس میں سے 10 فیصد پائلٹ کی جیب سے جرمانے کی صورت میں وصول کیا گیا۔
نظم و ضبط کی خلاف ورزی: پائلٹ نے پرواز سے پہلے بریفنگ میں تصاویر لینے کے ارادے کا ذکر کیا تھا، لیکن اسے روکا نہیں گیا، جو کہ کمانڈ سٹرکچر کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیاتی پہلو:
1۔ انسانی غلطی اور ڈیجیٹل خلفشار:
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور اربوں روپے کے طیارے بھی انسانی لاپروائی کے سامنے بے بس ہیں۔ "سیلفی کلچر" اور سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی دکھانے کا جنون اب پیشہ ورانہ فوجی نظم و ضبط میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔
2۔ فضائی حفاظتی پروٹوکولز پر سوالات:
رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ تصاویر لینا "عام رواج" تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ فضائیہ کے اعلیٰ حکام یا تو اس خطرناک عادت سے بے خبر تھے یا انہوں نے اسے نظر انداز کیا۔ ایک ونگ مین (Wingman) کا کام اپنے لیڈر کی حفاظت اور فاصلے کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، لیکن موبائل فون کی توجہ نے اسے بنیادی ذمہ داری سے غافل کر دیا۔
3۔ جرمانے کی اہمیت:
فوجی پائلٹ پر بھاری مالی جرمانہ عائد کرنا ایک غیر معمولی قدم ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور دیگر پائلٹس کو یہ پیغام دینا ہے کہ قومی اثاثوں کو ذاتی شوق کی بھینٹ چڑھانے کی قیمت انہیں خود چکانی پڑے گی۔
4۔ دفاعی اثرات:
جنوبی کوریا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں اسے ہر وقت شمالی کوریا کی جانب سے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں تربیت یافتہ پائلٹس کی ایسی غیر سنجیدگی ملک کی دفاعی ساکھ اور تیاری پر منفی اثر ڈالتی ہے۔