عمان کا بڑا فیصلہ: دھماکے کے بعد اہم ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ معطل، مبینہ ڈرون حملے کا انکشاف
مسقط (اردو پيور نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحری اور سفارتی کشیدگی کے درمیان توانائی کی عالمی مارکیٹ سے ایک اور بڑی اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سلطنتِ عمان نے اپنے ایک کلیدی اور انتہائی اہم ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ کا عمل فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
یہ ہنگامی فیصلہ ٹرمینل کے قریب ہونے والے ایک پراسرار دھماکے کے بعد سیکیورٹی اقدامات کے تحت کیا گیا ہے۔
منیٰ الفحل ٹرمینل پر دھماکہ
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق، عمان نے اپنے سب سے اہم منیٰ الفحل ٹرمینل (Mina Al Fahal Terminal) پر خام تیل کی لوڈنگ کے تمام آپریشنز اس وقت روک دیے، جب وہاں سمندر میں قائم سنگل بوائے مورنگ برتھ (Single Buoy Mooring) کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
یہ ٹرمینل عمان سے عالمی منڈیوں کو خام تیل برآمد کرنے کا سب سے بڑا اور بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ڈرون حملے کا مبینہ دعویٰ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے متعلقہ ذرائع کے حوالے سے اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں:
- مقام: ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ ٹرمینل کی دو اہم ترین برتھس یعنی SBM-1 اور SBM-2 کے بالکل درمیانی حصے میں ہوا۔
- وجہ: رپورٹ میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دھماکہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ڈرون حملے کے باعث پیش آیا ہے۔
تاہم، روئٹرز کی رپورٹ میں معلومات فراہم کرنے والے ذرائع کی حساسیت کے پیشِ نظر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اور نہ ہی ابھی تک کسی تنظیم یا ملک نے اس مبینہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور بحری ناکہ بندیوں کے اس دور میں، عمان کے اس اہم ٹرمینل پر آپریشنز کی معطلی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر منیٰ الفحل ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ کا یہ تعطل طویل مدتی ہوا، تو اس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر سونے اور خام تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑے گا۔