واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں سمندری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کا کنٹرول مرکزی تنازع بن چکا ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں ایک اہم نیوز بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا خواہش مند نہیں، تاہم خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ایک نیا بحری آپریشن شروع کیا گیا ہے جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو محفوظ بنانا اور عالمی سطح پر توانائی و تجارت کے اس اہم راستے کو دوبارہ فعال کرنا ہے، جس پر حالیہ کشیدگی کے باعث شدید دباؤ پڑا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کی سمندری سرگرمیاں اور مبینہ جارحانہ اقدامات نہ صرف ایک ملک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق سینکڑوں تجارتی جہاز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے کے منتظر ہیں، اور امریکہ ان کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس آپریشن کے دوران امریکی افواج کو ایران کی زمینی، فضائی یا سمندری حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی، اور نہ ہی واشنگٹن کسی براہِ راست مسلح تصادم کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اس بحری مشن کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے جواب میں اٹھایا گیا ہے، جس نے عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
منگل کے روز خلیج میں دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کے عسکری تبادلے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک توازن متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی معیشت اور سلامتی بھی براہِ راست متاثر ہو سکتی ہے۔
تاحال ایران کی جانب سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے قریب کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔