امریکہ کی سیاست ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے — اور اس بار دباؤ براہِ راست وائٹ ہاؤس تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک نئے سروے نے آنے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
امریکی میڈیا اداروں واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق عوام کی بڑی اکثریت اہم قومی اور عالمی معاملات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن نظر آتی ہے۔
خاص طور پر ایران کے ساتھ کشیدگی اور معاشی مسائل جیسے مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ سروے کے مطابق 66 فیصد امریکیوں نے ایران پالیسی کو ناپسند کیا، جبکہ صرف 23 فیصد افراد نے معیارِ زندگی سے متعلق حکومتی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 62 فیصد امریکی انہیں ناپسند کرتے ہیں — جو ان کے دونوں ادوارِ صدارت میں اب تک کی بلند ترین غیر مقبولیت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال صرف پالیسیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ذاتی اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔ تقریباً 71 فیصد افراد صدر کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، جبکہ 59 فیصد نے ان کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ رجحان آنے والے انتخابات میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، کیونکہ ڈیموکریٹک ووٹرز اس وقت زیادہ متحرک اور ووٹ ڈالنے کے لیے پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب انتظامیہ کے دیگر اہم عہدیداران بھی عوامی تنقید کی زد میں ہیں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ شامل ہیں۔
خصوصاً وزیر دفاع کی جانب سے دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز کو 65 فیصد عوام نے مسترد کر دیا ہے، جو حکومتی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کی واضح علامت ہے۔
سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کے مطابق عوامی رائے میں اس تبدیلی کی بڑی وجہ جنگی خدشات اور معاشی دباؤ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی ایک بڑی تعداد ٹرمپ کی حمایت کر رہی ہے، لیکن آزاد ووٹرز میں گرتی ہوئی مقبولیت پارٹی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے۔
یوں لگتا ہے کہ آنے والے مہینے امریکی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے — جہاں عوامی رائے، معاشی حالات اور عالمی کشیدگیاں مل کر انتخابی نتائج کی سمت کا تعین کریں گی۔