عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی، سرمایہ کار محتاط
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد گر کر 4,467.59 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.9 فیصد کمی کے بعد 4,471.10 ڈالر پر آ گئے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں مسلسل اضافہ ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اب زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
ڈالر مضبوط، سونا مہنگا
امریکی ڈالر اس وقت چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر موجود ہے، جس سے دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کیلئے سونا خریدنا مزید مہنگا ہو گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی عالمی طلب میں کمی آ جاتی ہے، کیونکہ زیادہ تر عالمی تجارت ڈالر میں کی جاتی ہے۔
شرح سود نے بھی دباؤ بڑھا دیا
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ ایک سال سے زائد کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے، جس کے باعث سونے جیسے “نان ییلڈنگ” اثاثے کم پرکشش ہو جاتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے حکام نے عندیہ دیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھی جا سکتی ہے، جبکہ بعض سرمایہ کار مزید اضافے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کر رہے۔
ایران امریکا کشیدگی پر بھی نظریں
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں جغرافیائی کشیدگی بڑھی تو سونے کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔
دیگر دھاتوں کی صورتحال
چاندی کی قیمت میں بھی 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 73.22 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔
اسی طرح پلاٹینم 0.5 فیصد سستا ہوا، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں معمولی 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔