بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں کے رہائشی آج بھی ستمبر 2006 کی 8 تاریخ کو نہیں بھول پاتے، جب جمعے کے روز شبِ برات کی مناسبت سے سینکڑوں افراد قبرستان میں موجود تھے اور نمازِ جمعہ کے بعد دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے بڑا قبرستان، حمیدیہ مسجد اور مشاورت چوک کے علاقوں میں یکے بعد دیگرے چار دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 312 زخمی ہوئے، اس واقعے کی تحقیقات پہلے مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور پھر سی بی آئی نے کیں جنہوں نے ابتدائی طور پر نو مسلمان افراد کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ دائر کی، تاہم 2016 میں ان پر عائد الزامات ختم کر دیے گئے اور یہ اپیل اب بھی زیر سماعت ہے، بعد ازاں 2011 میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک الگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے چار ہندو ملزمان کو اس کیس میں نامزد کیا، جنہیں حال ہی میں 22 اپریل 2026 کو بمبئی ہائی کورٹ نے تمام الزامات سے بری کر دیا، اس فیصلے کے بعد کیس میں مفرور قرار دیے گئے سات افراد سمیت کئی پہلو آج بھی غیر واضح ہیں، ابتدائی تحقیقات میں جہاں مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا وہیں بعد میں این آئی اے نے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سوامی اسیمانند کے مبینہ اعترافی بیان پر انحصار کیا، جس کے بعد کیس نے سیاسی رنگ بھی اختیار کیا اور مختلف ادوار میں اسے "ہندوتوا دہشت گردی" یا "سیفرن ٹیرر" جیسے بیانیوں سے جوڑا جاتا رہا، بی جے پی نے حالیہ عدالتی فیصلے کو کانگریس کے مؤقف پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف اور سچائی کے منتظر ہیں، ایک متاثرہ نوجوان کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کے بیرون ملک تعلیم کے خواب اس دھماکے کے ساتھ ہی ختم ہو گئے اور آج برسوں بعد بھی وہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔