Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

مالیگاؤں دھماکے: 20 سال بعد تمام ملزمان کی بریت، بھارتی نظامِ انصاف اور تحقیقات پر سوالات اٹھ گئے

javaid 05 May 2026 1 منٹ پڑھیں 60

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں کے رہائشی آج بھی ستمبر 2006 کی 8 تاریخ کو نہیں بھول پاتے، جب جمعے کے روز شبِ برات کی مناسبت سے سینکڑوں افراد قبرستان میں موجود تھے اور نمازِ جمعہ کے بعد دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے بڑا قبرستان، حمیدیہ مسجد اور مشاورت چوک کے علاقوں میں یکے بعد دیگرے چار دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 312 زخمی ہوئے، اس واقعے کی تحقیقات پہلے مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور پھر سی بی آئی نے کیں جنہوں نے ابتدائی طور پر نو مسلمان افراد کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ دائر کی، تاہم 2016 میں ان پر عائد الزامات ختم کر دیے گئے اور یہ اپیل اب بھی زیر سماعت ہے، بعد ازاں 2011 میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک الگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے چار ہندو ملزمان کو اس کیس میں نامزد کیا، جنہیں حال ہی میں 22 اپریل 2026 کو بمبئی ہائی کورٹ نے تمام الزامات سے بری کر دیا، اس فیصلے کے بعد کیس میں مفرور قرار دیے گئے سات افراد سمیت کئی پہلو آج بھی غیر واضح ہیں، ابتدائی تحقیقات میں جہاں مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا وہیں بعد میں این آئی اے نے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سوامی اسیمانند کے مبینہ اعترافی بیان پر انحصار کیا، جس کے بعد کیس نے سیاسی رنگ بھی اختیار کیا اور مختلف ادوار میں اسے "ہندوتوا دہشت گردی" یا "سیفرن ٹیرر" جیسے بیانیوں سے جوڑا جاتا رہا، بی جے پی نے حالیہ عدالتی فیصلے کو کانگریس کے مؤقف پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف اور سچائی کے منتظر ہیں، ایک متاثرہ نوجوان کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کے بیرون ملک تعلیم کے خواب اس دھماکے کے ساتھ ہی ختم ہو گئے اور آج برسوں بعد بھی وہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP