ناروے میں مودی سے سخت سوالات، آزادیٔ صحافت پر بھارت کو مشکل سوالات کا سامنا
اوسلو میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے نے عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت، حکومتی جوابدہی اور جمہوری اقدار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناروے کی ایک صحافی کی جانب سے کیے گئے سخت سوالات اور بعد ازاں بھارتی وزارتِ خارجہ کی پریس بریفنگ میں ہونے والی تلخ کلامی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔
یہ واقعہ نہ صرف بھارتی میڈیا کے کردار بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری تشخص سے متعلق بھی سوالات کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔
وہ سوال جس نے ماحول بدل دیا
ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر جب مودی اسٹیج سے نیچے اتر رہے تھے تو ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے بلند آواز میں سوال کیا:
“وزیرِ اعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا سے سوالات کیوں نہیں لیتے؟”
یہ مختصر سوال چند ہی لمحوں میں عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ویڈیو کلپس ایکس، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھی گئیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ سوال صرف ایک صحافی کا سوال نہیں تھا بلکہ وہ خدشات تھے جو کئی برسوں سے عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے حوالے سے اٹھاتی رہی ہیں۔
ناروے کی صحافی نے کن سوالات پر زور دیا؟
بعد ازاں بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ہونے والی پریس بریفنگ میں بھی یہی صحافی دوبارہ سرگرم دکھائی دیں۔ انہوں نے بھارتی حکام سے براہِ راست سوالات کیے:
- بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کیوں لگ رہے ہیں؟
- عالمی برادری بھارت پر اعتماد کیوں کرے؟
- وزیرِ اعظم مودی آزادانہ سوالات سے گریز کیوں کرتے ہیں؟
- بھارتی میڈیا حکومتی پالیسیوں پر کھلے انداز میں تنقید کیوں نہیں کرتا؟
یہ سوالات خاص طور پر اس لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ ناروے دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں آزادیٔ صحافت کو جمہوریت کی بنیادی شرط تصور کیا جاتا ہے۔
“یہ میری پریس کانفرنس ہے”
بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری سبی جارج نے جواب دیتے ہوئے بھارت کی قدیم تہذیب، کووڈ کے دوران عالمی امداد اور جمہوری نظام کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا:
“دنیا نے کووڈ کے دوران بھارت پر اعتماد کیا کیونکہ ہم نے 150 سے زائد ممالک کو ویکسین اور ادویات فراہم کیں۔”
تاہم صحافی بار بار انسانی حقوق کے سوال پر واپس آتی رہیں اور براہِ راست جواب کا مطالبہ کرتی رہیں۔
اس دوران ماحول کشیدہ ہو گیا اور سبی جارج نے کہا:
“پلیز مجھے انٹرپٹ نہ کریں، یہ میری پریس کانفرنس ہے۔”
یہ جملہ بھی سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا اور اسے کئی صارفین نے صحافتی سوالات سے بے چینی کی علامت قرار دیا۔
ناروے کیوں اہم مثال سمجھا جاتا ہے؟
ناروے دنیا کے اُن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں میڈیا کی آزادی، حکومتی شفافیت اور صحافیوں کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی تازہ درجہ بندی کے مطابق ناروے مسلسل کئی برسوں سے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر موجود ہے، جبکہ بھارت کی درجہ بندی کافی نیچے جا چکی ہے۔
اسی لیے ناروے میں اٹھنے والے اس سوال کو محض ایک سفارتی لمحہ نہیں بلکہ “دو مختلف صحافتی نظریات کا تصادم” بھی کہا جا رہا ہے۔
بھارتی اپوزیشن کا سخت ردعمل
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:
“جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو سوالات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
جبکہ مہوا موئترا نے ناروے کی صحافی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہ کام کیا جو بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے نے برسوں سے نہیں کیا، یعنی اقتدار سے جوابدہی کا مطالبہ۔
سوشل میڈیا پر بھی متعدد بھارتی صحافیوں، دانشوروں اور طلبہ نے اس واقعے کو “اہم صحافتی لمحہ” قرار دیا۔
بھارت پر بڑھتے عالمی سوالات
گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت میں:
- میڈیا اداروں پر دباؤ،
- اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں،
- صحافیوں کی گرفتاریوں،
- اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس
نے عالمی اداروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
اگرچہ بھارتی حکومت ان الزامات کو “سیاسی پروپیگنڈا” قرار دیتی ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ بحث مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں میڈیا واقعی آزاد ہے؟
سفارتی دورہ یا امیج کا بحران؟
وزیرِ اعظم مودی اس وقت یورپ اور خلیجی ممالک کے اہم دورے پر ہیں، جس میں وہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن اور ناروے کا دورہ کر چکے ہیں۔
بھارتی حکومت اس دورے کو معاشی اور سفارتی کامیابی قرار دے رہی ہے، تاہم اوسلو میں پیش آنے والے اس واقعے نے دورے کی توجہ کسی حد تک آزادیٔ صحافت، انسانی حقوق اور حکومتی جوابدہی کے سوالات کی جانب منتقل کر دی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ناروے میں ہونے والی یہ مختصر مگر تند گفتگو مستقبل میں بھارت اور مغربی جمہوریتوں کے تعلقات میں میڈیا آزادی کے مسئلے کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔