وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے ویڈلاک پالیسی سے متعلق حالیہ فیصلے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر سوالات سامنے رکھ دیے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے پر تمام سرکاری اداروں کو سختی سے عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی۔ آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ویڈلاک پالیسی کو غیر معینہ مدت کی پوسٹنگ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی قانونی حق حاصل ہوتا ہے، یہ محض ایک رہنما اصول ہے جس کی بنیاد پر فیصلے دینا یا اسے جواز بنا کر بیوروکریسی کے ڈھانچے یا سروسز قوانین کا دائرہ کار طے کرنا درست نہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شریک حیات کی تعیناتی کے مقام پر پوسٹنگ کو سول سرونٹ کا مکمل حق تسلیم کیا، اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس ضمن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ آئینی عدالت کے مطابق اگرچہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں ہوتی، تاہم وہ نظائر کے طور پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، جہاں سروسز قوانین کی واضح تشریح کی گئی ہے کہ کسی سول سرونٹ کے لیے یہ حق نہیں کہ اسے ڈیپوٹیشن پر غیر معینہ مدت کے لیے شریک حیات کے مقام تعیناتی پر تعینات رکھا جائے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے ماتحت عدالتوں اور حکام پر لازم ہوتے ہیں، اس لیے آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کو نہایت احتیاط اور باریک بینی سے فیصلے کرنے چاہئیں، کیونکہ قانونی نکات کی تشریح میں غلطی ممکن ہے جس کی بروقت اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فیڈرل سروسز ٹربیونل کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مبشر اقبال ظفر کے حق میں ویڈلاک پالیسی کے تحت ان کی سکول ٹیچر اہلیہ کی خانیوال سے ٹرانسفر منسوخ کر دی تھی۔