Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

ویڈ لاک پالیسی رہنما اصول، قانونی استحقاق نہیں، آئینی عدالت

javaid 05 May 2026 1 منٹ پڑھیں 93

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے ویڈلاک پالیسی سے متعلق حالیہ فیصلے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر سوالات سامنے رکھ دیے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے پر تمام سرکاری اداروں کو سختی سے عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی۔ آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ویڈلاک پالیسی کو غیر معینہ مدت کی پوسٹنگ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی قانونی حق حاصل ہوتا ہے، یہ محض ایک رہنما اصول ہے جس کی بنیاد پر فیصلے دینا یا اسے جواز بنا کر بیوروکریسی کے ڈھانچے یا سروسز قوانین کا دائرہ کار طے کرنا درست نہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شریک حیات کی تعیناتی کے مقام پر پوسٹنگ کو سول سرونٹ کا مکمل حق تسلیم کیا، اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس ضمن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ آئینی عدالت کے مطابق اگرچہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں ہوتی، تاہم وہ نظائر کے طور پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، جہاں سروسز قوانین کی واضح تشریح کی گئی ہے کہ کسی سول سرونٹ کے لیے یہ حق نہیں کہ اسے ڈیپوٹیشن پر غیر معینہ مدت کے لیے شریک حیات کے مقام تعیناتی پر تعینات رکھا جائے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے ماتحت عدالتوں اور حکام پر لازم ہوتے ہیں، اس لیے آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کو نہایت احتیاط اور باریک بینی سے فیصلے کرنے چاہئیں، کیونکہ قانونی نکات کی تشریح میں غلطی ممکن ہے جس کی بروقت اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فیڈرل سروسز ٹربیونل کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مبشر اقبال ظفر کے حق میں ویڈلاک پالیسی کے تحت ان کی سکول ٹیچر اہلیہ کی خانیوال سے ٹرانسفر منسوخ کر دی تھی۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP