پاکستانی کوہِ پیما سلمان عتیق نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لی
پاکستان کے لیے ایک اور تاریخی لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کوہِ پیما سلمان عتیق نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کامیابی سے سر کر لی۔ سلمان عتیق جمعرات کی صبح تقریباً 11 بج کر 39 منٹ پر 8,848.86 میٹر بلند چوٹی پر پہنچے اور قومی پرچم لہرا کر پاکستان کا نام روشن کیا۔
سلمان عتیق ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پاکستان کے 13ویں یا 14ویں کوہِ پیما قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ، جو نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہے، دنیا کی بلند ترین چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے سیکڑوں کوہِ پیما اسے سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم شدید سردی، کم آکسیجن، برفانی طوفان اور خطرناک راستوں کے باعث یہ مہم انتہائی دشوار تصور کی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سلمان عتیق اس سال ایورسٹ سر کرنے والے نمایاں پاکستانی کوہِ پیما تھے۔ نیپال حکومت ہر سال مختلف ممالک کے کوہِ پیماؤں کو ایورسٹ سر کرنے کے لیے خصوصی پرمٹس جاری کرتی ہے۔
سلمان عتیق صرف کوہِ پیما ہی نہیں بلکہ اسکوبا ڈائیور اور پیراگلائیڈر بھی ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے نیپال میں دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماناسلو (8,163 میٹر) بھی کامیابی سے سر کی تھی، جس کے بعد ان کی یہ نئی کامیابی پاکستانی ماؤنٹینئرنگ کمیونٹی کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان نے سلمان عتیق کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی نوجوانوں کے لیے ہمت، عزم اور ایڈونچر کی نئی مثال ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستانی کوہِ پیماؤں نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں ثمینہ بیگ، شہروز کاشف اور ساجد سدپارہ جیسے نام شامل ہیں۔