پاکستان میں آئی فون 17 کیوں بنا خواب؟ قیمت کے ساتھ بھاری پی ٹی اے ٹیکس نے صارفین کو پریشان کردیا
ایپل کے آئی فون دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بے حد مقبول سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی بلند قیمتیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے بھاری ٹیکسز عام صارفین کے لیے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آئی فون 17 سیریز 2026 میں بھی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی اسمارٹ فون لائن اپس میں شامل ہے، جس میں نئے اپ گریڈز، بہتر کیمرہ سسٹمز، زیادہ اسٹوریج اور بہتر ڈسپلے فیچرز دیے گئے ہیں۔
ایپل نے اس بار معیاری اور پرو ماڈلز کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے باعث صارفین کو نسبتاً بہتر فیچرز بنیادی ماڈلز میں بھی مل رہے ہیں۔
پاکستانی مارکیٹ میں آئی فون 17 سیریز کی قیمتیں تقریباً 4 لاکھ روپے سے شروع ہو کر 9 لاکھ روپے تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ مختلف ماڈلز اور اسٹوریج ویریئنٹس کے حساب سے قیمت میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم اصل مسئلہ صرف فون کی قیمت نہیں بلکہ پی ٹی اے رجسٹریشن ٹیکس بھی ہے، جو کئی صارفین کے لیے فون خریدنے کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے۔
پاکستان میں بیرونِ ملک سے لائے گئے آئی فونز کو مقامی نیٹ ورک پر چلانے کے لیے پی ٹی اے سے رجسٹر کرانا ضروری ہوتا ہے، اور اس کے لیے ادا کیے جانے والے ٹیکس کا انحصار فون کے ماڈل، قیمت اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مہنگے آئی فون ماڈلز پر ٹیکس بعض اوقات ایک درمیانے درجے کے اینڈرائیڈ فون کی قیمت کے برابر بھی پہنچ جاتا ہے، جس کی وجہ سے کئی صارفین نان پی ٹی اے فون استعمال کرنے یا متبادل برانڈز کی طرف جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان میں آئی فون کی طلب برقرار ہے اور نوجوان صارفین کے درمیان اسے اب بھی اسٹیٹس سمبل تصور کیا جاتا ہے۔