پاکستان میں ہاؤسنگ لون ڈیفالٹرز کے لیے بڑا جھٹکا، بینکوں کو جائیداد نیلام کرنے کے مزید اختیارات مل گئے
سینیٹ نے فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کے بعد ہاؤسنگ فنانس کے ڈیفالٹرز کے لیے قوانین مزید سخت ہو گئے ہیں اور بینکوں کو قرض کی وصولی کے لیے زیادہ اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
نئے قانون کے تحت اگر کوئی قرض لینے والا اپنی ہاؤسنگ فنانس ادائیگیوں میں ناکام رہتا ہے تو اسے تین بار تحریری نوٹس دیا جائے گا، ہر نوٹس کے درمیان 30 دن کا وقفہ ہوگا۔ اگر آخری نوٹس کے بعد بھی رقم ادا نہ کی گئی تو بینک کو رہن رکھی گئی جائیداد نیلام کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
قانون میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب جائیداد کی نیلامی سے پہلے عدالت کی پیشگی اجازت ضروری نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے بینک نوٹس کی تمام شرائط پوری کرنے کے بعد براہِ راست نیلامی کا عمل شروع کر سکیں گے۔
تاہم بل میں قرض لینے والوں کو کچھ اضافی تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ قرض کی ری اسٹرکچرنگ یا تصفیہ کی درخواستوں پر 30 دن کے اندر فیصلہ کریں۔
نئے فریم ورک کے مطابق نیلامی کا اشتہار جاری ہونے کے کم از کم 15 کاروباری دن بعد ہی نیلامی کی جا سکے گی، جبکہ بینک خود بھی نیلامی کے عمل میں حصہ لے سکیں گے۔ قرض لینے والے کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ بولی کو 5 دن کے اندر میچ کر سکے۔
مزید یہ کہ بینکوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنرز سے براہِ راست مدد لے کر جائیداد کا قبضہ حاصل کر سکیں، اور عدالتوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریکوری کیسز میں فوری طور پر حکم امتناعی جاری نہ کریں جب تک بینک کا موقف نہ سن لیا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ قانون پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس سیکٹر میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، جس سے بینکنگ نظام میں ریکوری بہتر ہونے کی توقع ہے، تاہم عام قرض لینے والوں پر اس کے اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔