پوتن: پائیدار امن کے لیے فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ کا جاری بحران ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر حل نہیں ہو سکتا، اور مشرقی بیت المقدس کو اس ریاست کا جائز دارالحکومت قرار دیا۔
صدر پوتن نے یہ بیان روسی توانائی ہفتہ بین الاقوامی فورم کے اجلاس عام سے خطاب کے دوران دیا، جس میں انہوں نے علاقائی تنازعے کی سیاسی جڑوں اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی حمایت
اپنے خطاب میں پوتن نے روس کے دیرینہ سفارتی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
پوتن نے تاریخی پسِ منظر بیان کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ابتدائی بین الاقوامی اتفاقِ رائے دو ریاستی حل پر مبنی تھا، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین دونوں کا بقائے باہمی پیشِ نظر تھا۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں اسرائیل وجود میں آ گیا، وہاں فلسطینی ریاست کا قیام کبھی عمل میں نہ آ سکا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی علاقوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے، جو اس دہائیوں پرانے بحران کے منصفانہ حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
غزہ میں ہولناک انسانی صورتحال
موجودہ جنگی صورتحال کی طرف آتے ہوئے پوتن نے غزہ میں انسانی تباہی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وہاں کے حالات کو "ہولناک" قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شہری جانی نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔
پوتن نے غزہ کے فوری انسانی بحران کو فلسطینی علاقوں کی حل طلب سیاسی حیثیت سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ محض عارضی سیکیورٹی اقدامات ناکام ہوتے رہیں گے۔ روسی قیادت کے مطابق بین الاقوامی کوششوں کو اصل بنیادی مسئلے یعنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف مرکوز کرنا ہوگا