یوکرین روس جنگ: زیلنسکی کی پوتن کو براہِ راست ملاقات کی پیشکش، 'امریکہ کی توجہ اب ایران پر ہے'
کیئو (اردو پيور عالمی ڈیسک): یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور اہم سفارتی کوشش کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے ایک کھلے خط کے ذریعے روسی صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ براہِ راست اور آمنے سامنے ملاقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اس پیشکش میں اگرچہ کوئی نئی شرائط شامل نہیں ہیں، لیکن اس میں کیئو (Kyiv) کی جانب سے یہ غیر معمولی اور کھلم کھلا اعتراف کیا گیا ہے کہ اب امریکہ کی توجہ مکمل طور پر یوکرین کے بجائے 'ایران کے معاملے' پر مرکوز ہو چکی ہے۔
کھلے خط کا متن اور کیئو کا مؤقف
روسی صدر کے نام جاری کیے گئے اس کھلے خط میں یوکرینی رہنما نے واضح کیا ہے کہ:
- براہِ راست مذاکرات کی تجویز: خط کے متن کے مطابق، "یوکرین تجویز کرتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست روابط کے ذریعے کیا جائے۔ میں ایک ملاقات کی تجویز دے رہا ہوں۔" زیلنسکی نے زور دیا کہ امن صرف یوکرین اور روس کے درمیان براہِ راست روابط کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
- امریکہ کی بدلتی توجہ: زیلنسکی نے لکھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مزید انتظار کرنا غلط ہو گا، کیونکہ یورپ میں جاری یہ جنگ کسی بھی وقت دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے، جبکہ فی الحال امریکہ کی توجہ مکمل طور پر ایران پر ہے۔
- جنگ بندی کی شرط: انہوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ (واضح رہے کہ روسی صدر پوتن اس سے قبل جمعرات کو ہی مکمل جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں)۔
خط کا جارحانہ انداز: تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کھلے خط کا انداز روایتی سفارتی خطوط کے برعکس کافی جارحانہ اور کسی حد تک تمسخر آمیز بھی تھا۔ خط میں مبینہ طور پر روسی علاقے پر یوکرین کے حالیہ کامیاب حملوں کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
اس اہم پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہو گا کہ اگر دونوں رہنما ملاقات کریں۔"
روس (کریملن) کا مؤقف اور پوتن کا بیان
روس کی جانب سے اس پیشکش پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے:
- کریملن کی تصدیق: روسی صدارتی محل (کریملن) نے صدر زیلنسکی کا خط موصول ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے اور ترجمان نے کہا ہے کہ صدر پوتن کو اس خط اور پیشکش کے حوالے سے مکمل آگاہ کیا جائے گا۔
- صدر پوتن کا بیان: دوسری جانب، سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے (اور بظاہر خط کے مندرجات دیکھے بغیر) صدر ولادیمر پوتن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ "یقیناً یوکرین کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں، تاہم اس کے لیے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔"
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث بڑی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین اس ممکنہ ملاقات کو جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم، لیکن کٹھن قدم قرار دے رہے ہیں۔