عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو غم میں مبتلا کیا بلکہ بھارت میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بھی شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ میرین انجینئر سریش پٹنالا بھی شامل تھے۔ ان کی اہلیہ بھارگوی کے مطابق سریش روزانہ انہیں پیغامات بھیجتے تھے، تاہم حملے سے دو دن قبل رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں انہیں اطلاع ملی کہ جہاز پر حملے کے دوران ان کے شوہر جان کی بازی ہار گئے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے واقعے پر امریکا سے سخت احتجاج کیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلیفونک گفتگو میں بھارتی مؤقف سے آگاہ کیا، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے بیان پر بھارت میں شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق خلیجی پانیوں میں موجود تمام تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی ہدایات پر فوری عمل کرنا چاہیے اور ایرانی تیل کی مبینہ غیر قانونی ترسیل برداشت نہیں کی جائے گی۔
بھارتی اپوزیشن رہنماؤں، سابق سفارتکاروں اور تجزیہ کاروں نے امریکی ردعمل کو غیر حساس قرار دیا ہے۔ کانگریس رہنما ششی تھرور نے کہا کہ امریکی بیان میں بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس یا ہمدردی کا اظہار تک نہیں کیا گیا، جو ایک قریبی شراکت دار کے لیے مایوس کن رویہ ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر دباؤ کا شکار ہیں، اور اس سانحے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔