واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہوگئے ہیں، جن میں متعدد تیل بردار جہاز بھی شامل ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جہاز جنوبی راستے سے سفر کر رہے ہیں جو مکمل طور پر محفوظ، قابلِ اعتماد اور شفاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی اعتراضات کے باوجود ممکن ہوا، تاہم اگر تہران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو امریکا دوبارہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ امن معاہدے کا مسودہ اسی ہفتے جاری کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دو مرحلوں پر مشتمل تصدیقی عمل ہوگا جبکہ کئی اہم تفصیلات پر ابھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکراتی عمل میں اسرائیل کو بھی شامل کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے جلد اعلان متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط جمعے کے روز جنیوا میں ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کو ایرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان کی خودمختاری کا احترام، آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری گزرگاہ بنانا، ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ہرجانے کی ادائیگی بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ ہیں۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اسے امن، سفارتکاری اور مکالمے کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار کو بھی سراہا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
اہم نکات:
- آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی۔
- امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا مسودہ جلد جاری ہونے کا امکان۔
- جنیوا میں معاہدے پر دستخط کی تیاریاں جاری۔
- ایران نے تیل برآمدات، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ہرجانے کی ادائیگی کو معاہدے کا حصہ قرار دیا۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کو سفارتی کامیابی اور امن کی فتح قرار دیا۔