چکوال سانحہ: 9 سالہ ہانیہ عدیل کیس میں اہم پیش رفت، سی سی ڈی اہلکار پر دفعہ 302 شامل
چکوال: ضلع چکوال میں 9 سالہ ہانیہ عدیل کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گرفتار سی سی ڈی اہلکار کے خلاف درج مقدمے میں دفعہ 302 (قتلِ عمد) شامل کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مقدمہ دفعہ 322 (قتلِ خطا) کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اہلکار نے مبینہ طور پر ایک گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ عدیل موقع پر جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان احمد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
مقدمے میں تبدیلی اور تفتیش
پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں استعمال ہونے والی رائفل برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ مقدمے کی تفتیش سٹی پولیس سے واپس لے کر سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے۔ گرفتار اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی ایف آئی آر میں دفعہ 302 شامل نہیں تھی تاہم بعد ازاں شواہد اور صورتحال کے پیش نظر اسے شامل کیا گیا، جس کے بعد اہلکار کی گرفتاری عمل میں آئی۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 39 سالہ عدیل احمد اپنی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ اپنے سسرال سے واپس جا رہے تھے۔ اسی دوران مبینہ ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کو لوٹ لیا اور زیورات چھین لیے۔
اسی وقت قریبی موجود سی سی ڈی اہلکار نے مبینہ ڈاکوؤں کو دیکھ کر فائرنگ کر دی، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اہلکار نے بعد میں گاڑی کو بھی مشتبہ سمجھتے ہوئے فائرنگ جاری رکھی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ عدیل موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ والد اور بھائی زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ڈاکو موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلہ اور بعد کی کارروائی
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں جمعرات کی رات سی سی ڈی اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان ایک اور مقابلہ ہوا جس میں دو ملزمان مارے گئے۔ ان کی شناخت محمد عباس اور محمد فیاض کے ناموں سے کی گئی ہے۔
سی سی ڈی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان متعدد وارداتوں میں ملوث تھے اور مختلف علاقوں میں ڈکیتیوں کے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔
حکام کا دورہ اور تحقیقات
سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا ڈھڈیال کا دورہ متوقع ہے، جہاں وہ متاثرہ خاندان سے ملاقات اور ہانیہ عدیل کی قبر پر فاتحہ خوانی کریں گے۔
ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور اب تک کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
حکومتی ردعمل اور JIT
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
ڈی پی او چکوال نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔