بلوچستان میں ڈیجیٹل دہشتگردی: سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے ذریعے ذہنوں پر قبضے کا ہوشربا انکشاف
اہم نکات:
- شرپسند اور ریاست مخالف عناصر نے دہشتگردی کے لیے اب جسمانی میدان کے بجائے 'ڈیجیٹل اسپیس' (Digital Space) کا انتخاب کر لیا ہے۔
- فیس بک، ایکس (ٹویٹر) اور واٹس ایپ گروپس کے ساتھ ساتھ مخصوص موبائل ایپس کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کی ذہن سازی (Brainwashing) کی جا رہی ہے۔
- جعلی خبروں (Fake News)، پرانی ویڈیوز اور جھوٹے بیانیے کو بنیاد بنا کر ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔
- سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے سائبر دہشتگردی کے اس نیٹ ورک کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔
دورِ جدید میں جنگ کے طریقے بدل چکے ہیں اور اب گولہ بارود سے زیادہ خطرناک ہتھیار 'اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ' بن چکے ہیں۔ حالیہ انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی رپورٹس میں ایک انتہائی ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے کہ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر اور دہشتگرد تنظیمیں اب 'ڈیجیٹل دہشتگردی' (Digital Terrorism) کا سہارا لے رہی ہیں۔
ان عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مبہم موبائل ایپس کا استعمال کرتے ہوئے معصوم اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذہنوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل دہشتگردی کا طریقہ کار (Modus Operandi)
سائبر ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، دشمن ایجنسیاں اور ان کے آلہ کار ایک انتہائی منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار کچھ یوں ہے:
- جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھرمار: فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس (X) پر ہزاروں کی تعداد میں جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جنہیں بیرونِ ملک (خصوصاً پڑوسی اور دشمن ممالک) سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔
- مخصوص موبائل ایپس کا استعمال: ایسی چیٹ ایپس اور کمیونٹی فورمز کا استعمال کیا جا رہا ہے جو بظاہر عام معلوم ہوتی ہیں، لیکن ان کے اندر خفیہ گروپس بنے ہوئے ہیں جہاں ریاست مخالف لٹریچر اور مواد شیئر کیا جاتا ہے۔
- جھوٹا بیانیہ اور ڈیپ فیک (Deepfake): پرانی تصویروں، دیگر ممالک کے تنازعات کی ویڈیوز اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے انہیں 'بلوچستان کی موجودہ صورتحال' کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام میں اشتعال پیدا ہو۔
ہدف: تعلیمی ادارے اور نوجوان نسل
اس ڈیجیٹل دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ بلوچستان کے نوجوان اور تعلیمی اداروں (یونیورسٹیوں اور کالجز) کے طلبہ ہیں۔ شرپسند عناصر محرومیوں اور بے روزگاری کے جذبات کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کو ہمدردی کے نام پر اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ انہیں بتدریج ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے خلاف اکسا کر شدت پسندی کی جانب دھکیلا جاتا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کی جوابی کارروائی اور تدارک
اس سنگین خطرے کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور سائبر کرائم ونگ نے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
متعدد ایسے سوشل میڈیا پیجز، واٹس ایپ گروپس اور ویب سائٹس کو بلاک کیا جا چکا ہے جو ڈیجیٹل دہشتگردی کے اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ مزید برآں، نوجوانوں اور والدین کو بھی مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر سنسنی خیز خبر یا مہم پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں اور بغیر تصدیق کے کوئی مواد شیئر کرنے سے گریز کریں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کی اس ففتھ جنریشن وار (5th Generation Warfare) کا مقابلہ صرف حکومتی پابندیوں سے نہیں، بلکہ شعور، آگاہی اور ایک مضبوط قومی بیانیے کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔