اسلام آباد: بڑھتی مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے دباؤ کے درمیان لاکھوں پاکستانی صارفین کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ سے زائد صارفین اس رعایتی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور حکومت سالانہ 527 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
بجلی صارفین کے لیے کیو آر کوڈ سہولت
اویس لغاری نے بتایا کہ صارفین اپنے بجلی میٹرز کو بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹر کر سکتے ہیں۔ اب تک 20 لاکھ سے زیادہ صارفین اس نظام سے منسلک ہو چکے ہیں جس کا مقصد بلنگ نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
گردشی قرضے میں نمایاں کمی کا دعویٰ
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں) کے معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں تقریباً 3500 ارب روپے کی ممکنہ بچت حاصل ہوئی ہے۔
کیا واقعی بجلی سستی ہوئی؟
اویس لغاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور حکومت صارفین کو مزید ریلیف دینے کے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
توانائی منصوبے اور سولرائزیشن
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 36 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ اہم آبی منصوبوں، خصوصاً دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکومت مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولرائزیشن کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
عوامی شکایات پر کارروائی
اویس لغاری نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک علاقے میں ٹرانسفارمر کی مرمت کے نام پر شہریوں سے 80 ہزار روپے وصول کیے گئے تھے۔ شکایت سامنے آنے پر متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی گئی تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تجزیہ: بجٹ 2026 میں توانائی شعبے کا بڑا امتحان
اگرچہ 200 یونٹ تک سبسڈی جاری رکھنے کا اعلان عوام کے لیے خوش آئند ہے، لیکن حکومت کو ایک جانب آئی ایم ایف کے مالی اہداف اور دوسری جانب بڑھتے توانائی اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق آنے والا بجٹ یہ واضح کرے گا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور سبسڈی پالیسی کو کس حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔