برسلز: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے واضح کیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت کے باوجود ایران کے حوالے سے یورپی یونین کی پالیسی میں بنیادی خدشات برقرار ہیں، خاص طور پر انسانی حقوق اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق معاملات۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں صرف سیاسی صورتحال سے نہیں بلکہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی خدشات سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی قسم کی نرمی یا پابندیوں میں کمی صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب ایران کی جانب سے “قابلِ اعتماد، حقیقی اور قابلِ تصدیق” عملی اقدامات سامنے آئیں۔
یورپی کمیشن کی صدر نے زور دیا کہ یورپی یونین کا مؤقف واضح ہے کہ محض بیانات یا وعدے کافی نہیں، بلکہ زمینی سطح پر ٹھوس تبدیلی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ صرف عملی پیش رفت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی سطح پر پابندیوں کے مستقبل پر نئی بحث جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم یورپ کی جانب سے فوری ریلیف یا مکمل پابندیوں کے خاتمے کا امکان محدود ہے۔
یاد رہے کہ یورپی یونین پہلے ہی ایران پر انسانی حقوق کی صورتحال اور جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے باعث متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں اثاثوں کی منجمدی، سفری پابندیاں اور حساس ٹیکنالوجی پر پابندیاں شامل ہیں۔