ایف بی آر افسران کی شناخت خفیہ رکھنے کا فیصلہ، نیا “نیشنل فیس لیس سینٹر” قائم کرنے کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی بجٹ (فنانس بل) میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت ٹیکس افسران کی شناخت خفیہ رکھنے اور مکمل فیس لیس نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیشنل فیس لیس سینٹر کی تجویز
فنانس بل کے مطابق ایف بی آر “نیشنل فیس لیس سینٹر” قائم کرنے کی تجویز دے رہا ہے، جہاں ٹیکس دہندگان کے کیسز خودکار نظام کے تحت افسران کو تفویض کیے جائیں گے۔
اس نظام کا مقصد ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کرنا ہے تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
مکمل الیکٹرانک ٹیکس نظام
تجویز کے مطابق:
- تمام ٹیکس کارروائیاں الیکٹرانک ذرائع سے انجام دی جائیں گی
- افسران کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی
- فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا
بل میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت کیے گئے احکامات کو افسر کی شناخت کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
ری آڈٹ اور نگرانی کے اختیارات
فنانس بل میں ایف بی آر کو مزید اختیارات دینے کی بھی تجویز شامل ہے، جن کے مطابق:
- کمشنر مخصوص حالات میں ری آڈٹ کا حکم دے سکے گا
- حسابات میں بے ضابطگی کے شبہ پر دوبارہ آڈٹ ممکن ہوگا
- چیف کمشنر کی منظوری کے بعد ری آڈٹ کا عمل شروع کیا جائے گا
مزید یہ کہ رجسٹرڈ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔
انوینٹری اور ویلیوایشن کا نظام
تجویز کے مطابق:
- کاروبار، اثاثوں اور سرمایہ کاری کی فزیکل ویریفکیشن جاری رہے گی
- اسٹاک کی نئی مالیت کا تعین کاسٹ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے کیا جائے گا
- ایف بی آر کے نامزد آڈیٹرز انوینٹری کا ری آڈٹ کریں گے
- کمشنر مخصوص مالی معلومات اور سوالات طلب کرنے کا مجاز ہوگا
مقصد اور پس منظر
حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس نظام کو جدید، خودکار اور شفاف بنانا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور ٹیکس وصولی کا نظام مؤثر بنایا جا سکے۔