اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں رواں مالی سال میں مقررہ اہداف سے نمایاں طور پر کم رہی ہیں، جس سے حکومت کے مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ایف بی آر کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 12 ہزار 95 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم ادارہ صرف 11 ہزار 227 ارب روپے جمع کر سکا۔ اس طرح ٹیکس وصولیوں میں 868 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔
صرف مئی کے مہینے میں ایف بی آر نے 966 ارب روپے کی وصولیاں کیں جبکہ ماہانہ ہدف 1,150 ارب روپے مقرر تھا، یعنی ایک ماہ میں بھی ادارہ اپنے ہدف سے خاصا پیچھے رہا۔
سالانہ ہدف حاصل کرنا مشکل؟
رواں مالی سال 2025-26 کے لیے ابتدا میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14 ہزار 307 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا۔
اس کے باوجود گیارہ ماہ میں صرف 11 ہزار 227 ارب روپے جمع ہو سکے ہیں۔ اس صورتحال میں آخری مہینے کے دوران تقریباً 2,752 ارب روپے مزید اکٹھا کرنا ہوں گے، جسے معاشی ماہرین عملی طور پر انتہائی مشکل بلکہ تقریباً ناممکن قرار دے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ ہے، جہاں محصولات کے اہداف معاشی اصلاحات کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی حکومت پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، کیونکہ محصولات میں کمی بجٹ خسارے، قرضوں کی ضروریات اور آئندہ مالی سال کے محصولات کے اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں کی سست روی، درآمدات میں کمی اور ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت ایف بی آر کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور محصولات بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، سخت نفاذ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں مزید تیز ہو سکتی ہیں تاکہ آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔