Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

ایف بی آر کا 868 ارب روپے کا شارٹ فال، ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگیا

ایف بی آر مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 868 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا شکار۔ 13,979 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 11,227 ارب روپے وصول، آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں نئی تشویش۔

javaid 31 May 2026 1 منٹ پڑھیں 101

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں رواں مالی سال میں مقررہ اہداف سے نمایاں طور پر کم رہی ہیں، جس سے حکومت کے مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ایف بی آر کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 12 ہزار 95 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم ادارہ صرف 11 ہزار 227 ارب روپے جمع کر سکا۔ اس طرح ٹیکس وصولیوں میں 868 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔

صرف مئی کے مہینے میں ایف بی آر نے 966 ارب روپے کی وصولیاں کیں جبکہ ماہانہ ہدف 1,150 ارب روپے مقرر تھا، یعنی ایک ماہ میں بھی ادارہ اپنے ہدف سے خاصا پیچھے رہا۔

سالانہ ہدف حاصل کرنا مشکل؟

رواں مالی سال 2025-26 کے لیے ابتدا میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14 ہزار 307 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا۔

اس کے باوجود گیارہ ماہ میں صرف 11 ہزار 227 ارب روپے جمع ہو سکے ہیں۔ اس صورتحال میں آخری مہینے کے دوران تقریباً 2,752 ارب روپے مزید اکٹھا کرنا ہوں گے، جسے معاشی ماہرین عملی طور پر انتہائی مشکل بلکہ تقریباً ناممکن قرار دے رہے ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ ہے، جہاں محصولات کے اہداف معاشی اصلاحات کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی حکومت پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، کیونکہ محصولات میں کمی بجٹ خسارے، قرضوں کی ضروریات اور آئندہ مالی سال کے محصولات کے اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔


اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں کی سست روی، درآمدات میں کمی اور ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت ایف بی آر کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور محصولات بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، سخت نفاذ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں مزید تیز ہو سکتی ہیں تاکہ آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP