گلگت بلتستان انتخابات: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی، چیف الیکشن کمشنر
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے واضح کیا ہے کہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے یا سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2020 کی طرح اس بار بھی شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی عملہ دیگر صوبوں سے طلب کیا گیا ہے تاکہ انتخابات غیر جانبدار اور منظم انداز میں مکمل ہوں۔
انتخابی ضابطہ اخلاق پر سخت عملدرآمد
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح کے عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، جبکہ گورنرز، وزراء اور سرکاری افسران پر انتخابی سرگرمیوں میں شرکت مکمل طور پر ممنوع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جرمانے، مقدمات اور قانونی کارروائی کا انتباہ
راجہ شہباز خان نے کہا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے، مقدمات اور دیگر قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق انتخابات کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، لسانی یا فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی تقاریر میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔
شفاف اور پرامن انتخابات اولین ترجیح
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کا انعقاد ہے۔ اس مقصد کے لیے مانیٹرنگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ضابطہ اخلاق کی یاد دہانی کے لیے باقاعدہ سرکلر بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔