عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ: اسپاٹ گولڈ 4,464 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا
نیویارک (بزنس ڈیسک): عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی مندی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی میں کمی کے امکانات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
سونے اور دیگر دھاتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتیں درج ذیل سطح پر ریکارڈ کی گئیں:
- اسپاٹ گولڈ (Spot Gold): سونے کی فوری خرید و فروخت کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,464.69 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
- امریکی گولڈ فیوچرز (US Gold Futures): مستقبل کی تجارت کے لیے سونے کے معاہدے بھی 0.6 فیصد بڑھ کر 4,491.70 ڈالر پر ٹریڈ ہوتے رہے۔
- چاندی کی قیمت (Silver Price): سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی 1 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یہ 73.44 ڈالر فی اونس ہو گئی۔
- دیگر دھاتیں: مارکیٹ میں پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈالر اور تیل کی قیمتوں کا اثر
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آتی ہے، تو سونا دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی طلب میں یکدم اضافہ ہو جاتا ہے۔
معروف تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق، سونے کی موجودہ قیمتوں کا تمام تر انحصار اس وقت خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور ڈالر کی پوزیشن پر ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بھی ممکنہ امن کی امیدوں کو بیدار کیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آئی ہیں۔
واشنگٹن کی سیاسی صورتحال اور مانیٹری پالیسی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں ایک اہم قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ یہ قرارداد اس تنازع پر امریکی قیادت میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشویش کو واضح کرتی ہے۔
اس تمام صورتحال پر نیویارک فیڈرل ریزرو کے صدر جان ولیمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مہنگائی پر پڑنے والے اثرات عارضی ہیں اور یہ طویل مدتی نہیں ہوں گے۔ اسی لیے مرکزی بینک کو فوری طور پر اپنی مانیٹری پالیسی یا شرحِ سود میں تبدیلی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی
معاشی ماہرین کا بظاہر یہ ماننا ہے کہ طویل مدتی بنیادوں پر سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے اور یہ سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ رہے گا، تاہم اس سال کے اختتام تک عالمی مارکیٹ میں اسی طرح کا اتار چڑھاؤ اور سیاسی ہلچل برقرار رہنے کا امکان ہے۔