امریکا ایران مذاکرات میں تعطل: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
- امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات منجمد ہونے کی خبروں سے عالمی مارکیٹ میں تیزی آگئی۔
- برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
- ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 95 ڈالر اور یو اے ای مربن 96 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے مبصرین اس اہم پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کی غیر یقینی صورتِ حال سے جوڑ رہے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، تیل کی مختلف اقسام کی قیمتیں درج ذیل سطح پر پہنچ چکی ہیں:
برینٹ خام تیل (Brent Crude)97 ڈالرتقریباً 1% اضافہ
(WTI) 95 ڈالراوپر کی طرف رجحانی يو اے ای مربن (UAE Murban) 96 ڈالراوپر کی طرف رجحان
قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجوہات
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کے پیچھے درج ذیل تین بڑے عوامل کارفرما ہیں:
- مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال: امریکا اور ایران کے مابین سفارتی تعطل سے خطے میں سیاسی بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
- سپلائی سے متعلق خدشات: جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث اہم بحری تجارتی راستوں سے تیل کی محفوظ سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
- عالمی طلب میں اضافہ: دنیا بھر کی بڑی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث خام تیل کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ سفارتی تعطل طویل ہوتا ہے، تو سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کے باعث آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کی نفسیاتی حد کو بھی عبور کر سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔