حیدرآباد: باسی کھانا کھانے سے 160 سے زائد افراد متاثر، متعدد بچے بھی شامل
حیدرآباد: قاسم آباد کے علاقے میں باسی کھانا کھانے کے بعد 160 سے زائد افراد کی حالت غیر ہو گئی، جن میں 60 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال قاسم آباد اور سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے مطابق متاثرہ افراد نے شادی کی تقریب سے بچ جانے والی باسی بریانی اور کسٹرڈ کھایا تھا جس کے بعد ان کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی۔ واقعے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور اضافی ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کو طلب کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق سحرش نگر اور قادر نگر کے مختلف علاقوں سے ہے، جہاں باسی کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد ہی متعدد افراد کی طبیعت بگڑ گئی اور بعض افراد بے ہوش ہو کر گر گئے۔ فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے انہیں اسپتال منتقل کیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریضوں کی بڑی تعداد آنے پر صورتحال کچھ دیر کے لیے غیر معمولی ہو گئی، تاہم تمام متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ شدید متاثرہ بچوں کو سول اسپتال کے چلڈرن آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر پیر غلام حسین نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ متاثرہ افراد کو 6 سے 12 گھنٹے زیر نگرانی رکھنے کے بعد طبیعت بہتر ہونے پر گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق منگل کی شام ایک بینکوئٹ میں شادی کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس کے بعد بچا ہوا کھانا علاقے میں تقسیم کیا گیا۔ یہ کھانا بدھ کی دوپہر استعمال کیا گیا، جس کے بعد بڑی تعداد میں افراد کی حالت خراب ہوئی۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ فوڈ اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ متعلقہ پکوان سینٹر کا معائنہ کیا جائے جہاں مبینہ طور پر یہ کھانا تیار کیا گیا تھا۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ انتظامیہ نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔