Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

بھارت کی عسکری جنونیت: جنوبی ایشیا کے امن کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری پالیسیوں، دفاعی اخراجات اور جارحانہ بیانات کے تناظر میں جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ۔

javaid 09 Jun 2026 1 منٹ پڑھیں 131

بھارت کی عسکری جنونیت: جنوبی ایشیا کے امن کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں امن و استحکام ہمیشہ نازک صورتحال سے دوچار رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھارت کی وہ عسکری سوچ اور پالیسی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران زیادہ جارحانہ اور طاقت کے استعمال پر مبنی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مُکند نروانے کے حالیہ انٹرویو نے ایک بار پھر اس سوچ کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سرحد پر تعینات کمانڈروں کو فوری فائرنگ اور جوابی کارروائی کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جبکہ چین کے ساتھ سرحد پر صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی دہلی کی دفاعی حکمت عملی میں پاکستان کو مسلسل ایک فوجی ہدف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت نے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ جدید جنگی طیاروں، میزائل نظام، ڈرون ٹیکنالوجی اور بحری قوت میں مسلسل سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ دنیا کے بڑے اسلحہ خریدار ممالک میں بھارت کا شمار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری طاقت اس کی قومی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کا دفاع مضبوط بنانا اس کا حق ہے، لیکن جب عسکری طاقت کو سفارت کاری پر فوقیت دی جانے لگے تو خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی کئی جنگوں، سرحدی تنازعات اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں طاقت کے مظاہرے اور جنگی بیانات امن کے امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں۔

2020 میں وادی گلوان میں چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ نے بھی یہ ثابت کیا کہ عسکری حکمت عملی ہمیشہ مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ دونوں ممالک کے درجنوں فوجی ہلاک ہوئے، لیکن تنازع آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی ماضی میں متعدد مرتبہ کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

بھارت کی جانب سے مسلسل اسلحہ کے ذخائر میں اضافہ، فوجی تیاریوں پر زور اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا کے امن کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات صرف پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ معاشی، سیاسی اور انسانی بحرانوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کو ترجیح دیں۔ جنگی حکمت عملی وقتی برتری تو دلا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف مکالمے اور اعتماد سازی سے ہی ممکن ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسلحہ کی دوڑ نے کبھی مستقل امن پیدا نہیں کیا۔ اگر خطے کے ممالک ترقی، خوشحالی اور استحکام چاہتے ہیں تو انہیں عسکری جنونیت کے بجائے عوامی فلاح، معاشی تعاون اور امن کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP