غیر ملکی دوروں پر بھارتی سیاحوں کے رویوں پر تنقید، سوئس ہوٹل میں خصوصی نوٹس آویزاں
اہم نکات:
- بھارتی سیاحوں پر دنیا کے مختلف ممالک میں مقامی آداب اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات۔
- سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے ناشتے کے بعد کھانا باہر لے جانے سے روکنے کے لیے 'انڈین گیسٹس' کے نام وارننگ لگا دی۔
- ویتنام ایئرپورٹ پر رقص اور ڈیوس میں بلند آواز میں موسیقی کے واقعات نے بھی عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی۔
دنیا کے مختلف ممالک میں سیر و تفریح کی غرض سے جانے والے بھارتی سیاحوں کے رویوں سے متعلق مسلسل شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارتی سیاحوں کے طرزِ عمل اور مقامی آداب کی خلاف ورزیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے بھارتی مہمانوں کے لیے باقاعدہ ایک خصوصی اور تنبیہی نوٹس آویزاں کر دیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ اور ہوٹل کا نوٹس
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بھارتی سیاحوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں مقامی قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل کی جانب سے جاری کردہ نوٹس خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس نوٹس میں واضح طور پر ”انڈین گیسٹس“ (Indian Guests) کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ناشتے (Buffet) کے بعد ریستوران سے کھانے پینے کی اشیا پیک کر کے اپنے ساتھ باہر نہ لے جائیں۔
دیگر متنازع واقعات
رپورٹ میں چند دیگر نمایاں واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اس عالمی بحث کو مزید تقویت دی:
- ڈیوس میں بلند آواز میں موسیقی: سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر ڈیوس میں ایک بھارتی کاروباری شخصیت کی جانب سے ایک کلب میں انتہائی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلانے کا واقعہ مقامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنا۔
- ویتنام ایئرپورٹ پر رقص: ویتنام کے ایک ہوائی اڈے پر متعدد بھارتی سیاحوں کی جانب سے طیارے کے بالکل قریب کھڑے ہو کر روایتی رقص کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس پر مقامی اور بین الاقوامی صارفین کی جانب سے ملے جلے اور سخت تنقیدی تبصرے سامنے آئے۔
بھارتی شہریوں اور میڈیا کا ردعمل
بیرونِ ملک پیش آنے والے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر خود بھارت کے اندر بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بھارتی کاروباری شخصیت نے اعتراف کیا کہ ہوٹل کا یہ نوٹس پڑھ کر انہیں شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور سیاح بھارتی شہری اکثر بلند آواز میں بات کرتے ہیں، غیر محتاط رویہ اپناتے ہیں اور بعض اوقات میزبان ملک کی مقامی ثقافت اور حساسیت کا خیال نہیں رکھتے۔
دوسری جانب، بھارتی میڈیا میں بھی اس حساس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سیاحوں کے اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم، دیگر حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ چند انفرادی واقعات اور مخصوص افراد کی غلطیوں کی بنیاد پر پوری قوم اور تمام سیاحوں کے بارے میں عمومی اور منفی رائے قائم کرنا کسی طور مناسب نہیں۔