بچوں کا قتل کسی صورت جائز نہیں: ایران کی امریکا اور اسرائیل پر کڑی تنقید
تہران (اردو پيور عالمی ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی حالات کے درمیان، ایران کی جانب سے ایک انتہائی سخت اور جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر حصوں میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر امریکہ اور اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ان جانی نقصانات کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا بیان
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک تفصیلی اور سخت بیان میں خطے میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے مقاصد کچھ بھی ہوں، بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی عالمی یا انسانی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- جغرافیائی حدود سے بالاتر ظلم: بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے لے کر بیروت (لبنان)، مینب، لامرد اور تہران سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی بچے امریکی اور اسرائیلی بموں اور میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں، ان کا خون ایک ہی حقیقت بیان کرتا ہے۔
- کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "کوئی بھی فوجی مقصد، سیاسی مفاد یا سکیورٹی جواز بچوں کے قتل کو درست قرار نہیں دے سکتا۔"
- انسانیت کا ضمیر: ترجمان نے بچوں کی اہمیت اور معصومیت کو اجاگر کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ "بچے نہ تو جنگ کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کا ذریعہ، بلکہ وہ انسانیت کا زندہ ضمیر ہیں۔ ہر مارا گیا یا زخمی بچہ ہماری مشترکہ انسانیت کا ایک حصہ دفن کر دیتا ہے۔"
عالمی پسِ منظر اور تنازع کی صورتحال
اگرچہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں (جیسے بی بی سی، الجزیرہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس) نے غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی ہولناک تصویر کشی کی ہے، ایران کا یہ بیان اسی وسیع تر پسِ منظر کی عکاسی کرتا ہے:
- غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال: بین الاقوامی اداروں کے مطابق اکتوبر کے بعد سے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں میں ایک بہت بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'یونیسیف' نے متعدد بار غزہ کو "بچوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین مقام" قرار دیا ہے۔
- لبنان (بیروت) کا محاذ: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحد پار فائرنگ اور فضائی حملوں میں بھی شہریوں اور بچوں کا جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے، جس نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
- ایران کا مؤقف: ایران مسلسل بین الاقوامی فورمز پر یہ بیانیہ پیش کر رہا ہے کہ خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کو امریکی ہتھیاروں اور سفارتی حمایت کی پشت پناہی حاصل ہے، اور اسی بنیاد پر تہران دونوں ممالک کو جنگی جرائم کا مشترکہ ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
ایرانی ترجمان کا یہ حالیہ بیان خطے میں جاری اس وسیع تر سفارتی اور عسکری جنگ کا حصہ ہے، جو انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کے معاملے پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔