ایران کی مسلح افواج ہر جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: پاسداران انقلاب کا سخت انتباہ
تہران: ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل یداللہ جوانی نے ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق صوبہ جنوبی خراسان کے شہر قائن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل جوانی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج “ہمہ وقت چوکس ہیں اور دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”
"انگلیاں ٹریگر پر ہیں"
پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر نے کہا کہ ایران کی فوجی قوت ہر ممکن خطرے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق “ہماری آنکھیں کھلی اور انگلیاں ٹریگر پر ہیں، دشمن کسی بھی جارحیت کی کوشش نہ کرے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ماضی میں بھی دباؤ اور جنگی حالات کا سامنا کر چکا ہے، لیکن ہر بار مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔
خطے میں غیر ملکی موجودگی پر تنقید
میجر جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ امریکا، یورپی ممالک اور خطے کی دیگر طاقتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ایران اپنے قواعد و ضوابط نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق خطے میں غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل پر الزامات
ایرانی جنرل نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے جون 2025 میں ایران کے خلاف 12 روزہ فوجی کارروائی کی تھی، جبکہ ایک اور آپریشن فروری کے آخر میں شروع ہو کر اپریل تک جاری رہا۔
ان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ایران کی جوابی حکمت عملی اور آبنائے ہرمز میں اثر و رسوخ نے مخالفین کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔
ایران کی مزاحمت کے دعوے
میجر جنرل جوانی نے مزید کہا کہ ایران نے نہ صرف بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا بلکہ اندرونی استحکام بھی برقرار رکھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مخالفین یہ سمجھتے تھے کہ ایران ایک ہفتے میں کمزور ہو جائے گا، تاہم حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی اور ایران نے سخت مزاحمت دکھائی۔
علاقائی طاقتوں پر تنقید
ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں، اسرائیل اور ان کے اتحادی ایران کو کمزور سمجھنے میں غلطی پر تھے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نہ صرف مضبوط ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہو چکا ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف سیاسی اور عسکری کشیدگیاں موجود ہیں، اور ایران کے عسکری و سفارتی بیانات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔