ایران، اسرائیل اور لبنان کشیدگی: جنگ بندی غیر یقینی، نئے حملوں کی دھمکیاں
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف اس کی فوجی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان یا ایرانی سرزمین پر دوبارہ حملے کیے گئے تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا جنگ بندی یا سنجیدہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا، جس کے باعث ایران کو اپنے عوام کے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط موقف اپنانا ہوگا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدے کا مسودہ ابھی تیار نہیں ہو سکا، تاہم دونوں ممالک پاکستان کے ذریعے رابطے میں ہیں اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تبادلہ خیال جاری ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے، جبکہ امریکا اور یورپی اتحادی افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں مزید معلومات طلب کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اسے واشنگٹن کی حمایت کھونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 3,637 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو بیروت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدوں پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔