مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں عسکری دباؤ کے بعد اب زیادہ توجہ سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت دیکھی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک محدود نوعیت کی کشیدگی میں کمی کے اشارے سامنے آئے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سخت سیکیورٹی موقف کے باوجود امریکا کی ترجیحات میں سفارت کاری کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے اسرائیلی قیادت کی تشویش بھی سامنے آ رہی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں جیسے نکات کی مکمل ضمانت موجود نہیں۔
اسرائیلی حکام کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ تل ابیب ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں سخت نگرانی اور پابندیوں کے تسلسل کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور کسی بڑے فوجی تصادم سے بچاؤ اولین ترجیح ہے۔
لبنان اور غزہ کی صورتحال بھی اس وسیع تر جغرافیائی تناظر کا حصہ بنی ہوئی ہے، جہاں مختلف مسلح گروہوں اور ریاستی اداکاروں کے درمیان کشیدگی نے خطے کو غیر مستحکم رکھا ہوا ہے۔
ماہرینِ بین الاقوامی امور کے مطابق اس وقت صورتحال ایک نازک توازن میں ہے، جہاں ایک طرف سیکیورٹی خدشات ہیں جبکہ دوسری طرف سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کی جانب سے مختلف اوقات میں سخت اور نرم بیانات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون اب بھی برقرار ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ ایران کے حوالے سے جاری سفارتی عمل کسی مستقل معاہدے کی طرف جاتا ہے یا خطہ دوبارہ کشیدگی کی طرف لوٹتا ہے۔