واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر تک کا فنڈ فراہم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تہران کو بعض اہم شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ تعمیراتی فنڈ خلیجی اتحادی ممالک کی جانب سے فراہم کیا جائے گا اور ایران اس سے اسی صورت فائدہ اٹھا سکے گا جب وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی مکمل پاسداری کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی کوئی شق موجودہ امن معاہدے کے مسودے میں شامل نہیں ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران کو مالی رعایت، اقتصادی تعاون یا پابندیوں میں نرمی اسی صورت مل سکتی ہے جب وہ اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے سمیت ایسے اقدامات کرے جن کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو عالمی نگرانی اور تصدیقی نظام کو بھی قبول کرنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے کا مسودہ جمعے کے بعد کسی وقت عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے جنیوا جائیں گے، تاہم وہ خود ممکنہ طور پر تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔
امریکی قیادت کے حالیہ بیانات نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ عالمی برادری معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کی منتظر ہے۔