ایران کا امریکا کو سخت ردعمل: دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہے گا اور اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو اپنے قومی اتحاد اور ماہرین کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ کسی بھی قسم کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، بجلی اور پانی جیسے بنیادی وسائل کو تباہ کرنا طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بوکھلاہٹ ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ ردعمل ہے جو کسی قوم کے مضبوطی سے کھڑے ہونے پر سامنے آتا ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران نہ صرف اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہے بلکہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب ایران کی مجلس شوریٰ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی امریکی صدر کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ سے نہیں ڈرتا اور اگر صورتحال بگڑی تو اس کے نتائج مزید سنگین ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور خطے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے گا۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدے میں پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا مزید سخت کارروائیوں پر غور کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اعلیٰ سطح پر سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔