ٹرمپ مبہم شرائط منوانا چاہتے ہیں، ابہام دور کیے بغیر معاہدے میں پیشرفت ناممکن: ایران کا دو ٹوک مؤقف
تہران (اردو پيور عالمی ڈیسک): ایران نے امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ اور مجوزہ شرائط پر اپنا سخت اور واضح مؤقف پیش کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ جب تک مجوزہ مسودے میں موجود ابہام کو دور نہیں کیا جاتا، کسی بھی قسم کی حتمی پیشرفت کا تصور محال ہے۔
مجوزہ مسودہ اور محسن رضائی کے تحفظات
ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر محسن رضائی نے اپنے ایک اہم بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
- امریکی دباؤ: محسن رضائی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ایران ان کی پیش کردہ شرائط کو من و عن تسلیم کر لے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ خود امریکی شرائط کو جان بوجھ کر مبہم رکھا گیا ہے۔
- پیشرفت کے لیے شرط: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے موجودہ مجوزہ مسودے میں کئی سنگین ابہام موجود ہیں جن کی فوری اور واضح تشریح ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ ابہام مکمل طور پر دور نہیں کیے جاتے، معاہدے میں کسی بھی حتمی پیشرفت کی امید رکھنا مشکل ہے۔
دشمن اندرونی اختلافات پیدا کرنا چاہتا ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
اسی کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی قوم کو اندرونی خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی دشمن اب براہِ راست حملے کے بجائے ایران کے اندر اختلافات اور پھوٹ پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔
- 37 ویں برسی پر پیغام: بانیِ انقلاب آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کی 37 ویں برسی کے موقع پر قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کو جب کھلے میدان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو اب وہ نفسیاتی جنگ کے ذریعے عوام کی استقامت اور حوصلے کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی قیادت کے یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی شرائط پر ڈٹا ہوا ہے اور اندرونی محاذ پر بھی عوام کو متحد رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔