ایران نے اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک نئی اور جدید تیز رفتار جنگی کشتی کی رونمائی کر دی ہے، جو کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق 27 رجب نامی اس جدید جنگی کشتی کو تہران کے انقلاب اسکوائر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران عوام اور حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگی کشتی غیر معمولی رفتار کی حامل ہے اور 100 ناٹس (تقریباً 185 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک سفر کر سکتی ہے، جس سے یہ خطے کی تیز ترین عسکری بحری کشتیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ "27 رجب" کو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں سے لیس کیا گیا ہے، جس کے باعث ایران کی بحری دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس نئی کشتی کی شمولیت ملک کی دفاعی خودکفالت اور بحری طاقت کے فروغ کی علامت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں جدید جنگی کشتیوں کی شمولیت خطے کی عسکری اہمیت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
یہ رونمائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال اور بحری نقل و حرکت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔