ایران کے افزودہ یورینیم کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کا انکشاف، امریکی میڈیا کا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کے تحفظ کے لیے زیر زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کی گئی ہیں۔
سی این این کی انٹیلی جنس رپورٹ
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات میں زیر زمین سرنگوں کو بند کرنا اور داخلی راستوں کو بارودی سرنگوں سے محفوظ بنانا شامل ہے۔
افزودہ یورینیم تک رسائی محدود
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران کے شہر اصفہان میں واقع جوہری تنصیب کی بند سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مواد کو دیگر حساس مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
ممکنہ امریکی کارروائی مؤخر
مزید کہا گیا ہے کہ مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ان جوہری ذخائر پر ممکنہ کارروائی کی تیاری کی تھی، تاہم بعد میں یہ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔
ایران کا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا
رپورٹ پر ایران کی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں بارہا اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے دفاعی تیاریوں کے عزم کا اظہار کرتا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں کشیدگی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔