تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ درست طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اسے ایران کے لیے ایک “باعزت دستاویز” کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس عمل میں فاتح بن کر سامنے آیا ہے اور اسرائیلی ردِعمل بھی اس بات کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمتی پیش رفت خطے اور ایران کی مزاحمتی قوتوں کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔
صدر پزشکیان نے بتایا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے 90 فیصد ارکان نے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جبکہ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔