بیروت میں اسرائیلی حملے، ایران-امریکا معاہدے سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ
بیروت: اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے دحیہ میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے دحیہ میں حزب اللہ کے اہداف پر کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ حملہ اسرائیلی علاقے کی جانب مبینہ فائرنگ کے جواب میں کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
حزب اللہ اور خطے میں ردعمل
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اتوار کی صبح اسرائیل کی فضائی حدود میں ڈرون بھیجے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں سائرن بجا دیے گئے۔
اس پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت کے متعدد وزرا نے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرچ نے حکومت پر زور دیا کہ دحیہ میں سخت اور فیصلہ کن پالیسی اپنائی جائے، جبکہ وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے بھی سخت ردعمل کی حمایت کی۔
ایران کا مؤقف اور سخت بیان
ایران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر کے مشیر ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا راستہ اسرائیل کو قابو میں لانے سے گزرتا ہے۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور معاہدے پر عملدرآمد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ایران-امریکا معاہدے کی پیش رفت
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور حتمی متن تیار ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں الیکٹرانک دستخط متوقع ہیں جس کے بعد اگلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
تازہ پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جہاں ایک طرف عسکری کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف سفارتی سطح پر اہم معاہدے کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔