Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

بیروت میں اسرائیلی حملے، ایران-امریکا معاہدے سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ

اسرائیلی فوج نے بیروت کے علاقے دحیہ میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا-ایران معاہدے سے قبل خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

javaid 14 Jun 2026 1 منٹ پڑھیں 66

بیروت میں اسرائیلی حملے، ایران-امریکا معاہدے سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ

بیروت: اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے دحیہ میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے دحیہ میں حزب اللہ کے اہداف پر کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ حملہ اسرائیلی علاقے کی جانب مبینہ فائرنگ کے جواب میں کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

حزب اللہ اور خطے میں ردعمل

دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اتوار کی صبح اسرائیل کی فضائی حدود میں ڈرون بھیجے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں سائرن بجا دیے گئے۔

اس پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت کے متعدد وزرا نے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرچ نے حکومت پر زور دیا کہ دحیہ میں سخت اور فیصلہ کن پالیسی اپنائی جائے، جبکہ وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے بھی سخت ردعمل کی حمایت کی۔

ایران کا مؤقف اور سخت بیان

ایران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر کے مشیر ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا راستہ اسرائیل کو قابو میں لانے سے گزرتا ہے۔

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور معاہدے پر عملدرآمد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ایران-امریکا معاہدے کی پیش رفت

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور حتمی متن تیار ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں الیکٹرانک دستخط متوقع ہیں جس کے بعد اگلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

تازہ پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جہاں ایک طرف عسکری کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف سفارتی سطح پر اہم معاہدے کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP