جے پور: بھارتی شہر جے پور میں ایک احتجاجی اجتماع اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب مبینہ طور پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے پر احتجاج کے دوران کچھ افراد نے حملہ کر دیا اور انہیں تھپڑوں کا نشانہ بنایا گیا۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز جے پور کے شہید اسمارک پر پیش آیا، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان مختلف مسائل خصوصاً نیٹ پیپر لیک اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کے لیے جمع تھے۔
رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دیپکے احتجاجی مقام پر اپنے حامیوں کے کندھوں پر سوار ہو کر پہنچے، جہاں انہوں نے اجتماع سے خطاب بھی کیا اور تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی اور نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اسی دوران صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مبینہ طور پر ان کے خلاف نعرے بازی شروع ہوئی اور کچھ افراد نے ان پر حملہ کرتے ہوئے تھپڑ مارے۔ واقعے کے بعد موقع پر افرا تفری پھیل گئی جبکہ سکیورٹی اور انتظامی صورتحال بھی کشیدہ ہو گئی۔
واقعے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ احتجاج میں شریک ہونے اور اپنے مؤقف کے اظہار کے لیے آئے تھے، تاہم انہیں داخل ہوتے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے حالات کچھ بھی ہوں، وہ خاموش نہیں ہوں گے اور اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کا مقصد کسی سے تصادم نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور نیٹ پیپر لیک جیسے مسائل پر توجہ دلانا ہے۔
دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی فوری طور پر تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی۔
احتجاجی اجتماع میں شریک دیگر افراد نے بھی مختلف تعلیمی اور معاشی مسائل پر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔